ضمیر

ضمیر سو گیا ہے. ضمیر مردہ ہو چکا ہے. ضمیر بیچ دیا ہے. اس قسم اور اس سے ملتے جلتے بہت سارے الفاط ہمیں روزانہ سننے کو ملتے ہیں اور ان الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے ہماری زبان نہیں تھکتی ۔

میں اپنے لان میں بیٹھا کتاب بینی کر رہا تھا کہ اچانک میرا دوست افضل جسے میں پیار سے فضلو کہتا ہوں بہت ہی سیدھا سادھا اور کھرا سا آدمی ہے میرے پاس آیا علیک سلیک کے بعد میں نے اسے کرسی پیش کی لیکن وہ کرسی میں بیٹھنے کے بجائے گھاس پر ہی دراز ہوا۔اور کہا صاف وہ صاحب کو صاف بولتا ہے کہ قدرت کا قالین ہی ہم غریبوں کے لئے مناسب لگتا ہے اس کا مطلب تھا کہ اسے گھاس پر ہی بیٹھنا مزا آتا ہے. فضلو ویسے تو ان پڑھ اور سادہ سا ہے لیکن سادگی میں کبھی کبھی ایسی پتے کی بات کہہ جاتا ہے کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔اس نے بیٹھتے ہی ایک سوال دھاک دیا کہ یہ صاف ضمیر کیا چیز ہے؟

اس کے سوال پر میں حیران ہوا ۔ آج یہ ضمیر کی یاد اسے کیسے آئی ہے ؟ ضرور کوئی نہ کوئی معاملہ ہے میں نے پوچھا کیوں کیا بات ہوئی ہے یہ آج آپ کو ضمیر صاحب کی یاد کیسے آئی ہے؟  چلو آپ ہی بتائیں کہ آپ کے خیال میں یہ ضمیر کیا ہو سکتا ہے میں نے یہی سوال اسی سے دوبارہ کیا ۔ اس نے بتایا کہ صاف جی میں جس سے بھی کبھی کسی برائی کے متعلق بات کرتا ہوں تو تو ہر کوئی کہتا ہے کہ ضمیر سو گیا ہے چھوڑو یار اس نے اپنے ضمیر کو بیج دیا ہے یا یہ سننے کو ملتا ہے کہ اس کا تو ضمیر ہی مر گیا ہے ہو نہ ہو ساف یہ ضمیر ضرور کوئی جادوئی چیز ہے ایک دم سوتا بھی ہے مردہ بھی ہوجاتا ہے اور بک بھی جاتا ہے اس نے ایکدم سے ایک اور سوال کیا کہ صاف کیا یہ ضمیر انسان کے اندر ہوتا ہے کیا ہم اسے دیکھ سکتے ہیں؟

میرے لبوں پہ ایک ہنسی آئی اورمیں نے اسے کہا کہ فضلو تم یہ کیا سلسلہ لیکر پریشان ہو رہے ہو چھوڑو کوئی اور بات کرو اس ضمیر کے متعلق تو آج تک کسی نے نہیں سوچا ہے تو میرے اور آپ کے سوچنے اور جاننے سے کیا ہوگا میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرنا چاہا لیکن وہ گھوم پھر کر پھر اپنے سوال کی طرف آیا اور کہا صاف جی یہ سوال مجھے بہت پریشان کرتا ہے اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہر وقت یہ سوال میرے ذہن میں گردش کرتا ہے کہ آخر سب لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ضمیر مر گیا ہے آخر ہم نے ضمیر کو کہاں کھویا ہے؟

میں نے بات کا رخ موڑنے کے لئے فضلو سے کہا کہ آپ اس چیز کے متعلق کیوں سوچتے ہیں جو ہمارے پاس ہے ہی نہیں ۔ لیکن فضلو بضد رہا کہ نہیں صاف جی آپ کو بتانا پڑیگا کہ یہ ضمیر ہے کیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر آپ نے اس کے متعلق جان لیا تو آپ مصیبت مین مبتلا ہو سکتے ہیں اور جس بندے کا ضمیر اس کے ساتھ ہو وہ آجکل کے معاشرے میں فِٹ نہیں ہو سکتا ایسے آدمی کو دنیا والے نالائق بیوقوف دیوانہ اور پاگل کے نام سے یاد کرتے ہیں. جیسے آپ کی مثال ہے آپ اپنی سادگی میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور معاشرے کی برائیوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن لوگ آپ کو دیوانہ اور بیوقوف کے القابات سے پکارتی ہے ۔ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ کیا صاف جی برائی کو برائی اور حرام کو حرام کہنے والے کو دنیا والے بیوقو ف سمجھتے ہیں؟ کیا صاف جی ہمارا فرج نہیں بنتا ہے کہ ہم حرام اور قومی دولت لوٹنے والوں ،بھائی کو بھائی سے لڑانے والوں تعصب اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کوشش نہ کریں کیا اس کے بارے میں روز قیامت ہمارا اللہ ہم سے نہیں پوچھے گا.

۔میں فضلو کی باتوں کو بڑے غور سے سن رہا تھا کتنا خلوص تھا اس کی باتوں میں کتنے دل کی گہرائیوں سے اس کی باتیں نکل رہی تھیں. میں اپنے سامنے ایک با ضمیر اور ایماندار شخص کو دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کاش ہم سب فضلو کی طرح کی سوچ رکھتے میں سوچ میں ہی تھا کہ فضلو نے کہا کہ کیوں صاف کس سوچ میں پڑ گئے میں چونک گیا اور اس سے کہا کہ فضلو تم کس کس کو روکو گے یہاں کا تو تو باوے کا باوا ہی بگڑا ہوا ہے ہر آدمی قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے آپ نے ضمیر کے متعلق سوال بھی کیا اور خود ہی آپ نے اس کا جواب بھی دیا ہے۔ یہ جو آپ معاشرے میں برائیاں دیکھ کر احساس کرتے ہو اور ان برائیوں کو دور کرنے کی تدبیریں کرتے ہو اور خود کو ان برائیوںسے بچا کر اپنی زندگی گزار رہے ہو اسی کا نام ضمیر ہے ۔ اور اس معاشرے سے برائیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے آپ جیسے ہی با ضمیر لوگوں کی ضرورت ہے ۔


One Response to ضمیر

  1. nice one dear, keep writing n sharing

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s