شینا زبان کی اساطیری کہانیاں

مقدمہ

شینا زبان کی اساطیری کہانیوں کی اشاعت پر قارئین کے ذہن میں یقینی طور پر یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ اکیسویں صدی میں رہنے والے انسان کے لئے یہ کہانیاں کیا معنی رکھتی ہیں؟ یہ دراصل جدیدیت کا پیدا کردہ سوال ہے جو دعوی کرتی ہے کہ انسان اسطوری طرز فکر سے نکل کر جدید عقلی دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لا اسطوری دنیا میں رہتے ہیں جہاں جدید عقلی رویّے ہی ہماری زندگی کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔

 رد اساطیریت Demythelogization کے جلو میں عقلیت کا غلبہ سترھویں صدی کی آخری دہائی میں شروع ہو کر بیسویں صدی کی پہلی دہائی تک جاری رہا[1]۔ لیکن پچھلی صدی کی آخری دہائی میں بعض مغربی مفکرین نے جدیدیت کے لا اسطوری ہونے کا اسطوری تصور ختم کر دیا۔ ان مفکرین میں پال ریکیور (Paul Ricoeur)، ڈان کیوپٹ (Don Cuppet)، کینیتھ برک (Kenneth Burk) اور لوڈویک ونگسٹائن (Ludwig Wittgenstein) شامل ہیں۔

اسطور کے ضمن میں ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے اندر حقیقت سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ریکیور کا کہنا ہے [2]  کہ اسطور[3]  کا عمل علامت سازی ہے اور اس میں نئے معنی دریافت کرنے اور اس کو عیاں کرنے کی استعداد ہوتی ہے۔ یہ معنی اسطور استعارہ کی شکل میں مہیا کرتا ہے۔ استعارہ وقت، حالات اور تجربات کے ساتھ معنی بدلتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ استعارہ کا استعمال ایک متحرک عمل ہے جو ہمیں اس اہل بناتا ہے کہ ہم پرانے معنوں کو نئے معنوں میں ڈال سکیں۔ ریکیور اس سلسلے میں یہ رائے رکھتا ہے کہ اسطورکا مقصد ہمیشہ اپنی ابتدا سے بڑھ جانا ہے۔

تھامس ہابس (Thomas Hobbes, 1588-1679) استعارہ کو زبان کی سجاوٹ قرار دیتا ہے مگر حقیقت کی رسائی کے لئے وہ اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتا ہے کیونکہ یہ ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گذر کر حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے ۔ (Thomas Hobbes, 2001,p.513.) ہابس کے اس نظریے سےایجابیت کا آغاز ہوتا ہے۔

 معروف جرمن مفکر فریڈرک نطشے 1814-1900) (Friedrich Nietzscheہابس سے استعارہ میں توڑ پھوڑ کے عمل کے پائے جانے پر اتفاق کرتا ہے لیکن وہ ہابس کے اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ حقیقت کا ادراک غیر استعاراتی فکر ہی سے ممکن ہے۔ نطشے کا کہنا ہے کہ استعارہ فہم انسانی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور زبان کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے زبان میں اس کے مقام کو سمجھنا لازمی ہے۔ نطشے استعارے کی تخلیق کو جبلی عمل کہتا ہےیہ ایک فنکارانہ قوت ہے جو فکشن تخلیق کرتی ہے۔ اپنی کتاب “Twilight of the Idol and the Anti Christ” میں لکھتا ہے:

”استعارے کی تشکیل کی طرف تحریک بنیادی انسانی تحریک ہےجو خیال کے پھیلاؤ کا ایک اکیلا واقعہ نہیں ہو سکتی ہے بلکہ خود انسان کے ساتھ پھیل سکتی ہے۔“[4] یہی وجہ ہے کہ وہ ارسطو کی انسان کے متعلق تعریف کہ ”انسان عقلی حیوان ہے“ کو رد کرتا ہے۔ نطشے کا دعوٰی ہے کہ ”انسان ایک استعاراتی حیوان ہے“ (Friedrich Nietzsche, 1968)

چونکہ زبان ہر لحاظ سے اظہار کا وسیلہ ہوتی ہے اور اپنے اظہار کے لئے یہ بولنے والے کے گرد موجود اشیاء سے اپنا تعلق جوڑتی ہے۔ اس سارے عمل میں استعارہ زبان کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔سٹین فورڈ, 1936)  (W. B. Stanfordکا خیال ہے کہ اسطور نے زبان کو قدیم لسانی ذرائع مہیا کئے۔ یہ ذریعے مرئی، غیر مرئی اور انسانوں اور حیوانوں کے اعمال سے متعلق ابتدائی لفظی اظہارات کی صورت میں تھے۔ ابتدائی دور میں زبان انتہائی سادہ تھی اور بنیادی چیزوں سے علاقہ رکھتی تھی لیکن مرور ایّام زبان دقیق افکارے، لطیف احساسات اور غیر مرئی موجودات کے متعلق اظہار کرنے کے قابل ہوئی۔

سٹین فورڈ کی رائے اس لئے بھی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جدید زمانے کے مفکروں نے پیچیدہ اور گنجلک افکار و ورادات کو بیان کرنے کے لئے قدیم دیو مالا کا سہارا لیا۔ مثال کے  طور پر سگمنڈ فرائڈ نے نفسیاتی الجھنوں، ذہنی کیفیتوں اور قلبی ورادات کی تشریح و توضیح یونانی دیومالا کے ذریعے کی۔ Oedipus Complex, Electra Complex, Thanatos, Eros وغیرہ نظریات یونانی دیومالا سے ماخوذ ہیں۔ اس سارے عمل میں نئے معنی موجودہ ضروریات اور مقاصد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں ضروری نہیں کہ الفاظ یا استعارہ اپنے ابتدائی معنی برقرار رکھ سکیں بلکہ ان میں نئے معنی کی تخلیق ہوتی ہے۔ اس عمل کو استعارہ کے معنی کا پھیلاؤ کہا جا سکتا ہے۔ ریکیور اس قسم کے معنی کو معنی کی تکثیر کہتا ہے۔ معنی کی تکثیر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم زبان کے قدیم سرچشموں سے فکری طور پر تفاعل کرتے ہیں۔

شینا کو جو استعارہ گلگت کے قدیم دیو مالا سے ملے ہیں وہ یا تو مردہ ہو چکے ہیں یا قریب المرگ ہیں۔ اور اگر کچھ زندہ بھی ہیں تو ان کے معنی صدیوں سے جامد پڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے جدید زمانے کے قاری کو ان میں ایسے معنی نہیں ملتے جن کے ذریعے عصر حاضر کے وجودی معموں کو سمجھا یا بیان کیا جا سکے۔

 اس کی وجہ یہ ہے کہ جدیدیت اور اس کی برق رفتار تبدیلیوں سے پیدا شدہ احساسات و تجربات ہماری زبان میں موجود لسانی ذریعوں اور الفاظ سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ زبان اور اس کی علامات کو وسعت دے کر احساسات و تجربات میں پیدا شدہ اضافی معنی کو اپنی زبان کے وسیلوں سے سمجھا یا بیان کیا جائے۔

شینا زبان صرف اس وقت ان کو بیان کرنے کے قابل ہو سکتی ہے جب ہم زبان میں دستیاب استعارے، علامات اور اساطیری ادب کو اپنے وجودی تجربات کی روشنی میں نئے معنی دے سکیں۔ اس طرح ہم لسانی وسیلوں کو وسعت دے کر اضافی معنی دریافت کر سکیں گے۔ شینا اساطیری ادب میں مستعمل استعارہ اور علامات کا یوں صدیوں منجمد رہنا دراصل ہمارے ذہنی جمود کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت ہم معنی کی غربت میں زندگی گذار رہے ہیں۔ من حیث القوم ہماری زندگی کا ہر پہلو بے معنویت کا شکار ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں موجود انتشار اس بے معنی طرز فکر کا قدرتی نتیجہ ہے۔

شکیل احمد شکیل کی اسطوری لوک کہانیوں کی یہ تالیف نئی نسل کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ان کہانیوں کے متن کی قرأت interaction کے ذریعے اس کے اضافی معنی دریافت کرے اور اس دریافت کے تناظر میں اپنی فکری آبیاری کر سکے۔ ڈین میکوچ اپنی کتاب “Childhood of Fiction” میں لکھتے ہیں ”بہت سی لوک کہانیوں کا ظہور مروجہ رواجوں یا ان واقعات کی تشریح و تفہیم کے لیے ہوا تھا جن کا انحصار ہی ان رواجوں پر تھا۔ لیکن مرور ایّام ان رواجوں کے داستانِ پارینہ بن جانے سے ان کی تشریح کرنے والے اسطور لوک داستانوں کی صورت میں زندہ رہ گئے اور یوں اساطیر اور لوک کہانیوں میں ایک مسلسل رابطہ ملتا ہے (ڈاکٹر اختر سلیم، 1991)۔

 ان کہانیوں کی نئی تشریح اور معنی کی دریافت کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کتاب کو محض تفریحی ادب کے نمونے کے طور پر نہ پڑھیں بلکہ سہ جہتی پہلو سے اس کا مطالعہ کریں۔ یہ پہلو ہمیں ادبی تنقید، علم البشریات، عمرانیات، فلسفۂ زبان، نفسیات، معنییات   (Semiology)اور تاویلی فلسفہ (Hermeneutics)، (فلسفےکا ایک مکتب فکر) فراہم کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر بہرام شہزادے کی کہانی میں ”اشکر“ جو شینا اساطیریات میں گھوڑا دیوتا ہے جس کی شکل (Pegasus) سے ملتی جلتی ہے اور ”زنپان“ (اڑن کشتی یا Fairy Boat) کا بار بار ذکر ملتا ہے مگر یہ اڑن کشتی صرف گلگت کے حدود کے اندر پرواز کر تی ہے اور چین کی سرحد پر جا کر اس کی پرواز رک جاتی ہے۔ اس کہانی کا جدید نفسیات کی روشنی میں مطالعہ اس میں پوشیدہ بے شمار نچلی تہوں کو کھول سکتا ہے۔

مشہور سوئس ماہر نفسیات کارل ژونگ Karl Jung  نے اڑن طشتریوں کی نفسیاتی توجیہ کی ہے۔ ژونگ کی کتاب  “Flying Saucers: A Modern Myth of Things Seen in the Skies”میں جدید زمانے کے انسان کی زندگی میں ایک اہم عنصر کے ختم ہونے کی وجہ سے پیدا شدہ دباؤ، خوف، بے چینی، مایوسی اور بے مقصدیت کا ذکر ملتا ہے۔ انسان اس گم شدہ عنصر کے متبادل کی تلاش میں ہے تاکہ وہ اس کی مدد سے اپنے وجود میں پیدا شدہ گہرے شگاف کو بھر سکے۔

 اس وجودی شگاف کے بارے میں شہزاد احمد یوں رقمطراز ہیں ”نہ صرف رویتیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ اجتماعی انعکاسی افواہیں، گروہی خوف اور عجیب و غریب مظاہر میں یقین لانا بھی پیدا ہوتا ہے۔“ (شہزاد احمد،1997 ، صفحہ 340 )  بہرام شہزادے کی کہانی میں شہزادہ اور بوڑھا دونوں گل اندام شہزادی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ سرحدوں پر بیٹھے نپُھور اور اس کے بھائی اور سات سروں والا دیو گروہی خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے اس کہانی کے کرداروں میں سوائے شہزادے کے سبھی کی خواہشات ادھوری رہتی ہیں۔

کہانی میں بہرام شہزادہ کئی موقعوں پر اڑن کشتی میں اڑتا نظر آتا ہے۔ شہزاد احمد اپنی کتاب ژونگ: نفسیات اورمخفی علوم میں ژونگ کی اڑن طشتریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”ژونگ یہ سمجھتا ہے کہ اڑن طشتریاں انعکاسی اسطور ہیں۔ بلاشبہ وہ انسان کے اجتماعی نفس کے اندر دور تک اثر انداز ہونے والے ہیجان کی نقیب ہوتی ہیں۔“ بہرام شہزادے کی کہانی میں اڑن کشتی شاید انعکاسی اسطور ہے جو اس دور کے انسان کے اجتماعی نفس کے اندر پیدا ہونے والے ہیجان کا نقیب ہو۔

ژونگ کا خیال ہے کہ اسطور میں موجود سطحیں اور علامات اساسی نقش[5] تشکیل دیتے ہیں۔ یہ اساسی نقش اجتماعی لاشعور کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ اجتماعی لا شعور کو وراثتی قرار دیتا ہے جو نوع انسان کے ماضی کے تجربات ہوتے ہیں اور ہمارے وراثتی دماغ کی ساخت میں پیوستہ ہوتے ہیں۔ اجتماعی لاشعور اساسی نقوش کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔

 شکیل احمد شکیل کی تالیف کردہ کہانیاں اس اجتماعی لاشعور کے متعلق شعور دینے کی ایک عمدہ کوشش ہیں۔ اساسی نقشی موضوعات اور کہانیاں مشکل سفروں، عزیزوں کی تلاش، آسمانوں کی طرف سفر، موت سے نجات، مافوق الفطرت مخلوقات سے لڑائی پر مشتل ہوتی ہیں۔ بہرام شہزادے کی کہانی میں ہمیں یہ اساسی نقشی موضوعات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان اساسی نقشی صورتوں کو خارجی حقائق اور انسانی تجربے ہی جنم دیتے ہیں۔

نفسیات کی روشنی میں تشریح کی یہ مثال اساطیری کہانیوں میں پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس خزانے کو ہم اس وقت دریافت کر سکتے ہیں جب ہم ان کو انسانی علوم میں اساطیر سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں پڑھیں اور تحقیق کریں۔

ددِی شِلوکے  کی یہ دوسری جلد شینا زبان کی اساطیری کہانیوں کے ذریعے ہمیں موقعہ فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنے وجودی اور معاشرتی کرب اور ابتلا کو اپنے ثقافتی استعارہ اور علامات میں اظہار کر سکیں۔ گو  کہ گلگت کا معاشرہ برق رفتار تبدیلیوں اور سماجی خلفشار سے گذر رہا ہے لیکن اس کے تجزیے اور تشخیص کے لئے ہم ایسی لفظ گری نہیں کر سکے ہیں جو ہمارے معروضی حالات، ثقافت، زبان اور تاریخی یاداشت سے مطابقت رکھتی ہو۔

یہ تالیف فہم کے اس خلا کو پر کرنے کی ایک اچھی کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کوشش اس وقت مکمل ہو گی جب قاری ان کہانیوں کے ساتھ فکری سطح پر تفاعل کرے گا۔ میرے خیال میں جہاں مؤلف کی تالیف ختم ہوتی ہے وہاں سے نقاد اور قاری کی زمہ داری شروع ہوتی ہے۔ امید ہے کہ قارئین اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہمیں اپنے تنقیدی مؤقف سے نوازیں گے تاکہ مستقبل میں یہاں ادب کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

عزیز علی داد
2 اپریل 2006
وزیٹنگ فیکلٹی ممبر
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت
Email: azizalidad@hotmail.com

References

Askari, Muhammad Hassan. 1963. “Iste’arē kā khauf,” Sitāra yā badbān (Karachi: Maktaba-e-sāt Rang, 1963, 20-34). [Written c. 1955, this essay is included in this anthology of critical essays. Footnotes have been added by the translator.]

Ricouer, Paul. 1967. The Symbolism of Evil,Boston, Beacon Press.

Ricouer, Paul. 2003. The Role of Metaphor.London andNew York: Routledge.

Jung, Karl. 1976. The Structure of the Psyche, in The Portable Jung, ed. Joseph Campbell, Penguin, p. 39.

Levi-Strauss. Claude: 1999. Myth and Meaning.London. Routledge..

Coupe, Laurence. 1997. Myth.London andNew York. Routledge.

Armstrong, Karen. 2005. A Short History of Myth. Penguin Books.

Nietzsche, Friedrich. 1968. Twilight of the Idol and the Anti Christ, trans. by R. J Collingdale. Harmondsworth: Penguin, p. 88.

Kauffman, Sarah. 1993. Nietzsche and Metaphor, trans. byDuncan Large. The Athlone Press,London:

Hobbes. Thomas: Leviathen. 2001. In Classics of Moral and Political Theory, Indianapolis/Cambridge: Hackett Publishing Company, p. 513.

Jung, Karl. The Archetype and the Collective Unconscious. Collected works, trans by R. F Hall. Vol. 9.1, 87-110PrincetonUniversity Press.

احمد،شہزاد، ژونگ: نفسیات اور مخفی علوم، ‍ي‏ ۔سنگ میل پبلی کیشنز لاہور، 1997 ، صفحہ 340۔

اختر، ڈاکٹر سلیم، داستان  اور ناول: تنقیدی مطالعہ۔ سنگ میل پبلی کیشنز، 1991 ،صفحہ 28۔


[1]یہ مغربی عقلیت ہی تھی جس کے زیر اثر مولانا الطاف حسین حالی نے استعارہ کو عقل کے تابع کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو شاعری کے زوال کا سبب جذبات کا استعارےکے ذریعے کثرت سے استعمال ہے۔ حالی کی رائے یہ ہے کہ استعارہ اگر سمجھنے میں مشکل ہو تو وہ اپنی شاعرانہ خصوصیات کھو دیتا ہے۔ چونکہ حالی کا شمار اردو تنقید کے بانیوں میں ہوتا ہے اس لیے اردو ادب میں استعارے کے خوف کی ابتداء بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اس رویے کی وجہ اردو ادب کو کتنا فائدہ اور نقصان ہوا یہ ایک الگ تحقیق کا متقاضی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی بالخصوص اور اردو ادب بالعموم ”استعارے کے خوف“ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے (Askari 1963)۔

 [2]استعارے کو ریکیور لسانی فلسفے کی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم استعارہ سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ ریکیور کا بنیادی دعوٰی یہ ہے کہ استعارہ دنیا کو پھر سے بیان کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ یہ استعارہ ہی ہے جس کے ذریعے لسانی تخیّل معنی در معنی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ ریکیور اسطور اور علامت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ان کی مدد سے ہم زبان کی مختلف پرتوں کو کھول کر معنی دریافت کر سکتے ہیں۔ استعارے کی مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے (Ricouer 1967)۔

 [3]اسطور ایک بیانیہ کہانی ہے جو اپنے اندر اجتماعی تجربات رکھتی ہے اور اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کرتی ہے۔ The New Fontana Dictionary of Modern Thoughtاسطور کو ایک مقدس بیان قرار دیتی ہے جس میں داستانوں اور پری کہانیوں میں صاف طور پر فرق نہیں کیا جاتا ہے۔ کارل ژونگ کا کہنا ہے کہ ہم پوری دیو مالا کو اجتماعی لاشعور کے مظہر کے اظہار کے طور پر لے سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے(Karl Jung, 1976, Levi-Strauss, 1999, Laurence Coup, 1997, Karen Armstrong, 2005)

[4] نطشے اور استعارے کے مزید مطالعے کے لیے دیکھیے (Sarah Kauffman, 1993)

[5] ژونگ اساسی نقش کو اوّلین مظاہر بیان کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ اوّلین اشکال اجتماعی لا شعور تشکیل دیتے ہیں۔ ژونگ یہ سمجھتا ہےکہ اجتماعی لا شعور کائناتی انسانی فکر کو ظاہر کرتا ہے جو کہ ہر ثقافت میں موجود ہوتا ہے۔ اساسی نقش ایک نمونہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھ کر مزید نمونے بنائے جاتے ہیں۔ (جاری)  اس لیے اسے Prototype بھی کہا جاتا ہے۔ عام اصطلاح میں یہ چیزوں کے مختلف گروہوں کا ایک ایسا مجرد خیال ہوتا ہے جو اس گروہ سے تعلق رکھنے والی چیزوں کی مخصوص خصوصیات کا اظہار کرے۔ اسے ہم مثالیہ یا paradigm بھی کہہ سکتے ہیں۔ اساسی نقش آفاقی ہوتا ہے اور ہمارے اجتماعی لا شعور کا پیداوار بھی۔یہ ہمارے       آبا و اجداد سے ہمیں ورثے میں ملتا ہے۔ انسانی معاشرے کی بنیادی صداقتیں پیدائش، بڑھا ہونا، محبت، خاندان، قبیلے کی زندگی، مرنا، والدین اور بچوں کے درمیان کشمکش کو  مخفی رکھنا اور رشتہ داری کی رقابت در اصل اساسی نقش ہیں۔ اس قسم کے بعض کردار اور کچھ اشخاص کی اقسام بطور کم یا زیادہ اساسی نقش تشکیل پاتی ہیں۔ اساسی نقش خیالات ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور وہ انسانی شعور ۟ میں نفوذ پذیر رہتی ہیں۔ افلاطون پہلا فلسفی ہے جس نے اساسی نقش یا مثالی چیزوں کا تصور پیش کیا۔ انیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی اس خیال اور موضوع کو مزید  شدت سے چھیڑا گیا۔ جبکہ تقابلی بشریات اور  تجزیاتی نفسیات کے ماہرین نے اس موضوع پر  گراں قدر  اضافے سامنے لائے۔ مزید مطالعے کے لیے دیکھیے(Karl Jung, vol.9.1)


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s