صحافت اور ۔۔۔۔۔۔۔ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے

ہدایت اللہ اختر

صحافت پر حملہ ہو یا پابندی ، صحافیوں کو زود کوب کرنے اور ان کو ہراساں کرنے کے اقدام ہوںیا صحافیوں کا قتل اس دور میں کوئی نئی بات نہیں رہی ہے ۔صحافت آج جس مقام پر کھڑی ہے اس کے پس منظر میں ایک بہت بڑی جہد و جہد کی کہانی کار فرما ہے ۔ مرحوم فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور سے لیکر آج تک ہر دور میں صحافیوں پر جو ظلم ڈھائے گئے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں صحافت اور صحافیوں کا گلا ہر حکومت نے اپنے دور اقتدار میں بھرپور طریقے سے گھوٹنے کی کوشش کی ہے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے اور اپنی ناکامیوں اور غلط کاریوں کو چھپانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرنا چاہا لیکن سوائے چند موقعوں کے علاوہ اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی وہ بھی اس طرح سے کہ چند ایسے صحافیوں کی بدولت جو بکاﺅ مال ثابت ہوئے ایسے وقت وہ اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامع پہنا کر اپنے نا پاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اپنے ان عزائم کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے حکومت اپنے محکمہ اطلاعات کے خصوصی سیکرٹ فنڈ جو ایسے ہی کاموں کے لئے مخصوس ہوتا ہے بروئے کار لاتی ہے ۔ میں اس وقت ملکی سطح کی صحافت کا تذکرہ کرنا نہیں چاہتا جہاںنامور صحافیوں کا قتل عام ہوا اس بارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کردیا ہے ۔اور اس کے نتیجے میں جو کچھ بھی پیش رفت ہوئی ہے اور ہو رہی ہے وہ قارئین کے سامنے ہے اگر اس کا ادراک نہین ہے تو وہ گلگت کی صوبائی حکومت اور اس کا سر براہ ہے ۔آج کی دنیا ما بدولت اور جہاں پناہ جان کی امان پاﺅں تو کچھ عرض کر دوں والی نہیںکہ آج کے بادشاہ یا وزیر اعلی کنیزوں کو ساتھ بیٹھا کردرباریوں کا استحصال کریں قارئین میں چاہتا ہوں کہ صحافت کے حوالے سے گلگت بلتستان میں جو جہد و جہد ہوئی ہے اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالوں تاکہ آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ گلگت بلتستا ن میں بھی صحافت کی کہانی بڑی کرب اور دردناک حالات کا سامنا کرتے ہوئے آج کی روپ میں منتقل ہوئی ہے ۔ ایف سی آر جسے کالا قانون کہتے تھے جہان حق بات کہنے والے کی زبان کاٹ دی جاتی تھی ایسے حالات میں بھی آزاد صحافت پر یقین رکھنے والے صحا فیوں نے سچائی اور حق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور دن رات ایک کرکے اسے پروان چڑھایا ۔مجھے یاد ہے کہ میں گورنمنت ہائی سکول گلگت نمبر ایک اس وقت یہ گلگت کا واحد سکول ہوتا تھا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھاسکول کے بچوں کو کلاس ون سے بڑی کلاسوں تک صبح سے شام تک بورڈنگ ہاوس جہاں اب ڈائریکٹریٹ آفس ہے سے لیکر ریسٹ ہاﺅس تک سڑک کے دونوں اطراف اے پی اے صاحب کے استقبال کے لئے کھڑا کر دیا جاتا تھا اور جب تک اے پی اے صاحب نہیں گزرتے تھے کسی کیا مجال تھی کہ کوئی بچہ ادھر ادھر ہو جائے ۔میں اس وقت بھی اپنے کلاس فیلوز سے کہتا تھا کہ کہ یہ کیا بکواس ہے اور کیا طریقہ ہے ؟ ایسا کیوں ہے؟ہمیں یہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر جس طرف چاہئیں کیوں ہانک رہے ہیں ؟ کیا ہم انسان نہ نہیں ؟ لیکن اس وقت میرے ساتھی میری ان باتوں کو کسی نہ کسی طرح سے ٹال دیتے تھے ۔ پھر اس کے بعد جب 1970-71ہم لوگوں نے ہائی کلاسوں میں قدم رکھا تو ہماری سوجھ بوجھ اور کھل گئی اور پھر 1974*76 چند دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وقتا فوقتا جب بھی کوئی اہم دن ہوگا اس وقت سائکلو سٹائل ٹائپ پمپھلٹ لوگوں میں تقسیم کرینگے اور اس طرح اپنی آواز کوحکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کرینگے اس سلسلے میں کیا کیا پاپڑ جھیلنے پڑے وہ ایک الگ موضوع ہے ۔میں اپنے ان دوستوں اور رفقا کا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا جو اس وقت گلگت بلتستان کو غلامی سے آزاد کرانے کی جہد و جہد میں ہمارے ساتھ شامل تھے ان میں سے چند حکومتی عہدوں پر کام کر رہے ہیںاور چند تو اس حکومت میں عوام کے نمائندے بنے بیٹھے ہیں ان کا نام لیتے ہوئے کوئی ہرج نہیں ان میں سے ایک تو جناب محمد موسی صاحب جو کالج میں صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں اور دوسرے نواز خان ناجی صاحب ہیں ماشااللہ دونوں عوام دوست لیڈر ہیںجو اس بات کے گواہ ہیں ۔ان ہی وقتوں کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزیر امور کشمیر گلگت کے دورے پر آئے تھے طلباء گلگت ریسٹ ہاﺅس میں امور کشمیر سے ملاقات کر رہے تھے تو اس وقت نواز خان ناجی نے وہاں ایک تقریر کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں ناانصافیوں اور حقوق کی بات کی تھی اور جب حقوق کی بات ہو جاتی ہے تو ہرحکومت سیخ پا ہو جاتی ہے وہ نہیں چاہتی ہے کہ ان کی مطلق العنایت میں کوئی مخمل ہو ان کے چاروں اور خدام کی فوج میں کمی واقع ہو اور وہ کرپشن کا بازار گرم کریں بس کوئی پوچھنے والا نہ ہو ۔ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے دور میں بھی اپنی حقوق کی جنگ لڑنے اور صحافت کے میداناور اس وقت کی صحافت بھی کیا تھی بس ایک سائکلو سٹائل شیٹ حکومت کو برداشت نہیں ہوتا تھا۔ قارئین اس وقت کا ایک مزےدار واقعہ کا تذکرہ بھی سن لیں جمہوری حکومت کا دورتھا ہم اپنی آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے تھے یا ہم الگ سا کوئی صوبہ نہین مانگ رہے تھے۔ چودہ اگست کا دن تھا میں اور میرے ایک دوست جو اس وقت جوڈیشری میں ایک اعلی عہدے میں کام کر رہے ہیں رات بھر جاگ کر کاٹی سائکلو سٹائل شیٹ تیار کیا اور دوسرے دن چودہ اگست شاہی پولوگرونڈمیں اس پمپھلٹ کو تقسیم کیا جس کی پاداش میں ہمیں جیل بھی ہوئی صرف اس لئے کہ اس پمپھلٹ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ہمیں پاکستانی بناﺅ یہی ہمارا جرم تھا کہ ہم گلگت بلتستان کو پاکستان بنانا چاہتے تھے اس وقت پاکستان کا مطالبہ کرنا بھی جرم ہوا کرتا تھا یوں یہ سائکلو سٹائل شیت کا سلسلہ چلتا رہا اور اس کارواں میں شامل کچھ لوگ یونیورسٹی لیول تک پہنچ گئے اور ان دوستوں کی جہد و جہد جاری رہی اور انہوں نے کبھی بھی حکومتی ہتھکنڈوں کے سامنے سر نہیں جھکایا ان نوجوانوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایک تنظیم کا قیام عمل میں لایا جس کو گلگت بلتستان سنٹرل آرگنائزیشن کا نام دیا گیا جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام طلباء نے رنگ نسل ذات پات اور مذہبی تفریق سے بالا تر ہو کر کام کیا اور طلباء کے مسائل سے لیکر گلگت بلتستان کے عوامی مسائل تک اپنی بساط کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی اس تنظیم کو یہ بھی اعجاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی کو ششوں اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنی آواز کو ایوان اقتدار کے حکمرانوں تک پہنچانے کے لئے سب سے پہلے ایک رسالہ کا اجرا کیا جس کا نام میارو تھا شائع کرکے گلگت بلتستان میں پہلی بار صحافت کا باقائدہ آغاز کیا جس میں راقم کے علاوہ شہباز ایڈو کیٹ اور دیگر رفقاکار شامل تھے اس وقت کی حکومت نے اس رسالے میں مضامین لکھنے والے طلباء یعنی راقم اور شہباز ایڈوکیٹ کے وظایف بھی روک دئے اور راقم کے والد جو ان دنون تحصلدار تھے اور شہباز ایڈوکیٹ جن کے والد محترم ص ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن تھے لیٹر ایشو کئے گئے کہ تمھارے صاحبزادے انٹی سٹیٹ ایکٹیویٹیز میں ملوث ہیں ان کو ہراسان کیا گیا اگرصحافت کی جہد و جہد کی بات کی جائے تو میرے خیال میں 1966 سے 1981 تک کام کرنے والے گلگت بلتستان کے وہ طلباءجو اس وقت پنشن ہوکر اپنے گھروں میں ہیں یا کچھ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں ان کی خدمات اور جہد و جہد کو کوئی نظر اندازنہیں کر سکتا ۔ جب ہم نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو ایک صفحے کا اخبار جس کا نام k2 تھا اس کا ہاکر گلگت میں قارئین کی تلاش میں سرگرداں رہتا تھا یہاں تک کہ اس وقت اس اخبار کو مفت بھی دیا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود پڑھنے والے کوئی نہیںتھے لیکن راقم کو فخر حاصل ہے کہ اس وقت بھی ہم نے یہ اخبار خود بھی خرید کر پڑھا اور دوسرے پڑھے لوگوں کو اس بات کی تلقین بھی کی اپنے علاقے کی ترقی اور حالات باخبر رہنے اور اس کی بہتری کے لئے اخبار کو ضرور خریدیں اور پڑ ھیں اس بات کی گواہی کے لئے سعادت علی مجاہد جو اس وقت بھی اس اخبار کے ساتھ منسلک ہیں بخوبی اگاہ ہیں ۔ میں نے یہ ساری کہانی اس لئے نہیں لکھی ہے کہ اپنی تعریف کے پل باندھا جائے یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ ہمیں گلگت بلتستان کی صحافت اور حقوق کی جہد و جہد کا محل وقوع اور تاریخی پس منظر کا پتہ چل جائیگا تو ہمیں اس کو سمجھنا آسان ہو جائیگا یہ جو آج آپ کے سامنے بہت سارے اخبار مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں یہ اس طویل جہد جہد کی مرہون منت ہیں ۔گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جس کو ہر حکمرانوں نے اپنی لونڈی سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہر دور میں ایسے حکمرانوں کو مزہ چکھانے والے کلمہ حق کہنے والے صحافی سامنے آئے اور انہوں نے ان کے ہر ہربے کو ناکام بنا دیا ۔ صرف اس لئے ہماری جہد و جہد ایک دن رنگ لائی گی ہماری اپنی حکومت ہوگی ہمارے بھائی ہمارے سرپرست ہونگے اور اپنا دست شفقت ہمارے سروں پر رکھینگے اویہاں بس امن اور شانتی ہوگی لیکن یہ کیا آج ہماری حکومت ہے جس کو اب ہم صوبا ئی حکومت کہتے ہیں ہمارے اپنے علاقے کا وزیر اعلی اور وزیر یہ کیا ہوا یہ تو دکھ درد بانتنے کے بجائے تھانیدار اور ڈیکٹیٹر بن کر اپنی مرضی کو مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں کہ خزانہ ہمارے پاس ہے ۔ کبھی کہتے ہیں کہ اشتہار لینے والے اخبار ہو شیار بس وہ صوبائی حکومت کے ہی گن گائیں چاہئے سانحہ ہنزہ ہو یا خاتون کا ریپ کیس بس اخبار صوبائی حکومت کا راگ الانپتے رہئیں ان حکمرانوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ کرپشن کا بازار گرم کرتے رہئیں اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہ ہو ۔اس حکومت کی کس کس کرپشن کی بات کریں یہاں تو کرپشن کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے کے لئے کئی قرطاس کی ضروت پڑیگی لیکن پھر بھی کرپشن کی فہرست ختم نہیں ہوگی ۔ اپنے پسند کے لوگوں کو نوازنا اس حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے کسی کو پندرہ لاکھ ، کسی کو دس لاکھ، کسی کو ایک لاکھ تماشے کے نام پر ناچ گانے کے نام پر، اپنے قصیدے کہلوانے پر ، لیکن میرا اس وقت کرپشن کی نشاندہی اور اس کو بے نقاب کرنا مقصود نہیں وقت کے ساتھ یہ چیزیں خود بخود سامنے آتی جائیگی ۔ صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہوگی کہ صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر ان کو ہراساں کرکے حق کی آواز کو دبا دے گی یہ اس کی خام خیالی ہوگی ایک صحافی کو کینٹ پولیس سٹیشن کے اندر زود کوب کیا گیا۔ اس سلسلے میں حکومت کو بذریعہ درخوست ، خبر اور کالموں کی کے تحت استدعا کی گئی لیکن اس کے باوجود پولیس والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا پریس کلب کے سابق صدر خورشید پر حملہ حکومت کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان کے کانوں میں جوں رینگی ۔ صوبائی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ایک روزنامے کے صحافی کو سکردو میں ہراساں کرکے اس کو نظر بند اور گرفتاری کا مطلب یہ ہے کہ اس صوبائی حکومت کے مشیر وزیر اعلی کی گود میں بیٹھ کر اس کی داڑھی نوچ رہے ہیں یا ہم یہ کہ سکتے ہیں چونٹی کو پر لگ چکے ہیں کہا جاتا ہے کہ چونٹی کو جب غائب ہونا ہو تو اس کے پر لگ جاتے ہیں اور وہ غائب ہو جاتی ہے ۔ ایسا ہونے سے پہلے صوبائی حکومت کے سربراہ کو اپنے معمالات کا از سر نو جائزہ لینا پڑیگا لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سانحہ ہنزہ میں بھی وہ کردار ادا کیا جا رہا ہے جو وفا قی حکومت نے لاہور میں ریمند ڈیوس کے ہاتھوں دو شہریوں کے قتل کے معمالے میں ادا کیا تھا یعنی دیت کا معمالہ یہ ایک اسلامی طریقہ تو ہوگا لیکن اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں وزیر اعلی کے بارے کئی شکوک و شہبات جنم لے سکتے ہیں جبکہ پہلے ہی سے بہت سارے سوالات اس سانحہ ہنزہ سے متعلق موجود ہیں اور بہت سارے کئے جارہے ہیں مثلا وزیر اعلی ہنزہ متاثرین سے ملے بغیراور ان کی دل جوئی کئے بغیر نگر کے راستے گلگت کیوں واپس آئے؟ وزیر اعلی اگر ہنزہ میں نہیںٹھیر سکتے تھے تو وہ نگر میں تو رہ سکتے تھے اور دوسرے دن متاثرین کے پاس جا سکتے تھے ۔ یہ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اخبار والے اور اخبار کے رپورٹر ان کو بہت پیارے لگتے ہیں لیکن جب یہ اقتدار کی مسند پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کو وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جب یہ اپنی خبر کو چھپوانے کے لئے اپنی پریس ریلز ہاتھ میں لئے گھنٹوں اخبار کے دفتروں میں براجمان رہتے تھے۔ ا سی طرح حکومتی اداروں کے وہ کارندے جب ان پہ زیادتی ہوتی ہے تو اخبار والے ان کو بہت یاد آجاتے ہیں اور جب حکمرانی کا نشہ چڑھ جاتا ہے تو ان کو اخبار والے تو کیا ان کو اپنی ماں باپ تک یاد نہیں ر ہتے ۔صحافت کے بارے میں حکومت کا یہ کہنا کہ یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے لیکن چوتھے ستون کے ساتھ حکومت کا بدمعاشی اور غیر مساویانہ سلوک سمجھ سے بالا تر ہے اگرحکو مت نے اپنی روش میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے رویے کو ٹھیک نہیں کیا تو گلگت یونین آف جرنلسٹ اور پریس کلب کا یہ احتجاج پورے گلگت بلتستان تک پھیل سکتا ہے اور پھر سارے پاکستان تک اس کی باز گشت سنائی دی جائیگی اس لئے صوبائی حکومت عقل اور ہوش کے ناخن لیتے ہوئے گلگت بلتستان کے صحافیوں کالم نویسوں تجزیہ نگاروں کو ہراساں کرنے ،جھوٹے مقدمات اور الزمات لگا کر ان کے خلاف مقدمات بنا کر ان پر تششدد اور تذلیل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اسے چاہئے کہ وہ صحافیوں کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنائے۔ اور ایسے میں یقین ہے کہ صحافی برادری اتفاق سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری رنگ و نسل ذات اور مذہب سے بالا تر ہوکر اپنی جہد و جہد کو آگے بڑھائینگے اور کلمہ حق کہنے میں کبھی نہ ہچکچائینگے چاہئے اس کے لئے ان پرظلم کے کتنے ہی پہاڑ کیو ں نہ ٹوٹیں۔ اور انشاللہ اگر وہ ثابت قدم رہے تو صحافت کے خلاف صوبائی حکومت کی ہر چال اور ہر ہربہ ناکام ہوگا اور گلگت بلتستان میں صحافت کا بول بالا ہوگا

ہدایت اللہ اختر گلگت  کے باسی اور نارتھ لینڈ پبلک سکول کے متظم ہیں٠


One Response to صحافت اور ۔۔۔۔۔۔۔ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے

  1. Buhot zabardast khayalat hay Hidayat sb.

    Allah karay zor-e-qalam aur ziada 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s