گلگت آتش فشاں کے دہانے پر

تحریر : اشتیاق احمد یاد

گلگت شہر جو کبھی جنت کا ایک شاندار نمونہ تھا۔۔تعلیمی ،ثقافتی وسیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔۔تنوّع میں یکجہتی (Unity in Diversity) کی ایک مثال تھا۔۔۔مہمان نوازی اور بھائی چارگی میں اپنی مثال آپ تھا۔۔۔اوراندرون اور بیرون ممالک کے سیّاحوں کا ایک جنکشن تھا۔۔۔مگرصد افسوس کہ فرقہ واریّت کے زہر نے آج جنت کو دوزخ میں بدل دیا ہے۔۔۔تعلیمی ، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کو تنزّلی کا شکار کردیا ہے۔۔۔تنوّع میںیکجہتی اور تکثیریّت (pluralism)کو پارہ پارہ کردیا ہے۔۔۔مہمان نوازی اور بھائی چارگی کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ہے۔۔۔اور اندرون اور بیرون ممالک کے سیاّ حوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔سب سے بڑھ کر سینکڑوں قیمتی جانیں اِس فرقہ واریّت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں ۔۔۔اور آج کل بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں پیش پیش ہیں۔قرآن پاک میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ ” ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیّت کا قتل ہے اور ایک انسان کو بچانا ساری انسانیّت کو بچانے کے مترادف ہے”

فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث آج گلگت شہر کے لوگ انتہائی گھٹن کا شکار ہیں۔لوگوں کی اکثریت نفسیاتی و دماغی امراض میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔گلگت میں بظاہر روشنی ہے مگر ہرطرف تاریکی ہے ۔مہذب اور ترقی یافتہ قومیں چاند پرپہنچ چکی ہیں اور دن بدن ترقی کی منازل شاندار طریقے سے طے کررہی ہیں۔مگر افسوس کہ ہم کم ظرف، کم عقل، منافق، متعصّب، تنگ نظر اور جاہل لوگ آپس میں ہی دست وگریباں ہیں۔ یہ دیکھ کے انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے پیارے شہر میں “نوگو ایریاز”بنائے ہوئے ہیں۔ہمیں اس گھِناﺅنے عمل سے نکلنا ہوگا وگرنہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ پکنے والا لاوہ آتش فشاں کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ آخر اس فرقہ واریّت میں کون لو گ ملوث ہیں؟ “گھر کو لگی ہے آگ گھر کے چراغ سے”کے مصداق ہمارے اپنے ہی لوگ اس گھِناﺅنے کھیل میں ملوث ہیں۔ہمار ے اپنے لوگوں کے ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔گلگت بلتستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن غیر معمولی ہونے اور اس خطّے کا کسی حد تک متنازعہ ہونے کے باعث یہاں “نیوگریٹ گیم”کا سلسلہ جاری ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کو چین کی روز افزوں ترقی بالکل نہیں بھاتی ہے اورپاک چین دوستی امریکہ کو کھٹکتی ہے۔چین کی تجارت کا بہت بڑا ذریعہ شاہراہ قراقرم ہے۔جو کہ گلگت سے ہوکر گزرتی ہے۔یہ شاہراہ امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔علاوہ ازیں اس خطّے کی حیثیت کسی حد تک متنازعہ ہونے کی وجہ سے انڈیا کی جانب سے بھی یہاں کے امن کو غارت کرنے کی سازشیں ہوسکتی ہیں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ گلگت بلتستان کو مستقبل کا Gateway of Central Asiaکہا جاتا ہے۔اس وجہ سے بھی شاید بیرونی طاقتیں اس خطے میں سازشوں اور بدامنی کو پروموٹ کررہی ہیں۔بحرحال حقیقی فرقہ واریّت ہو یا بناوٹی۔۔دونوں صورتوں میں لوگ ہمارے ہی ملوث ہوتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس اہم ترین مسئلے کے ساتھ کیسے نمٹا جائے۔۔۔؟ لوگوں کے ہونٹوں پر ہنسی کیسے بحال کی جائے۔۔۔؟اور گلگت کو امن کا گہوارہ کیسے بنایا جائے۔۔۔؟دنیا کا ایک مسلّمہ اصول ہے کہ جس مسئلے کے حل کے لیے عوام خود جاگتی ہے،اُٹھ کھڑی ہوتی ہے،آگے بڑھتی ہے،ہمت وجراءت کامظاہرہ کرتی ہے اور وقت کی قربانی دیتی ہے۔اُس مسئلے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے میں زبردست مدد ملتی ہے۔لہذ ا فرقہ وارانہ کشیدگی سے نکلنے کے لیے گلگت کے لوگوں کو خود اُٹھنا ہوگا۔اورعارضی طریقے استعمال کرنے کے بجائے مستقل طور پر ایک “تحریک اور مشن “کی شکل میںاس مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔اس کے لیے دونوں جانب سے

جان ،مال اور وقت کی قربانی ناگزیر ہے۔میری تجویز ہے کہ ابتدائی طور پر شیعہ برادری اور سُنی برادری سے پچاس پچاس اہم بزرگ، معتبر اور بااثر افراد کو آگے آنا ہوگااور ایک تحریک اورمشن کے طور پر اس مسئلے کی بیخ کنی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ان سو نمائندوں کو متاثرین کے گھر جانا ہوگااور انہیں حکمت وبصیرت کے ذریعے معافی ودرگزر کے لیے آمادہ کرنا ہوگا۔یہ بات اٹل ہے کہ جب تک جن کے باپ،بھائی، بیٹااور خاوند قتل ہوئے ہیں اُ ن کو مکمل اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور انہیں مکمل مطمئن نہیں کیاجاتا ۔حالات کے سدھرنے کے امکانات نہیں ہیں۔اس کے لیے معروف بینکر ودانشور شیر جہان میر صاحب کی “دِیت”کی تجویز کو بھی پیش نظر رکھنا مسئلہ کے حل کے لیے ضروری ہے۔اس سلسلے میں صوبائی حکومت ،مقامی انتظامیہ،سیاستدانوں،علمائے کرام ،عوام،نوجوانوں اور سوِل سوسائٹی کا ان سو نمائندوں کا ساتھ دینا اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے از حد ضروری ہے۔

فرقہ واریّت کے خاتمے کے لیے محترم آغا راحت حسین الحسینی اور محترم قاضی نثار احمد کا کردار بھی نہایت اہم ہوسکتاہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ گلگت میں فرقہ وارانہ فسادات ان احباب کی وجہ سے ہوتے ہیں۔مگر یہ بات مکمل یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی دیانتدارانہ اور جرائتمندانہ کوششوں سے فرقہ واریّت کو کم سے کم کرنے یا ختم کرنے میں ضرور مدد مل سکتی ہے۔کیونکہ یہ دونوں محترم احباب اپنے اپنے فرقے میں نہایت بااثر(Influencial)ہیں۔گلگت کے لوگ ہر محفل میں یہ بات تواتر کے ساتھ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان دونوں علمائے دین کے آگے آنے اورعملی جدوجہد کرنے سے مسئلے کو حل کرنے میں زبردست مدد مل سکتی ہے۔اللہ کی رضامندی اور انسانیت کی بہتری کے لیے ان دونوں علمائے دین میں سے ایک کو پہل کرنا ہوگی۔ایک دوسرے سے ملنا ہوگا،بات چیت کرنا ہوگی اور دونوں کو مل کر ایک تحریک اور مشن کے طور پر عملی جدوجہد کرنا ہوگی ۔اگر یہ دونوں علمائے دین خدانخواستہ انا پرستی اور زعم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے گریزاں ہوتے ہیں تو گلگت کی عوام کو بہت مایوسی ہوگی اور یہ شہر مزید تباہی وبربادی کی دلدل میں پھنس جائے گا۔اس کے برعکس یہ محترم علمائے دین ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور فرقہ واریّت کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیںتو لوگوں کے دلوں میں ان کی قدرومنزلت اور عقیدت مزید بڑھ جائے گی۔اورلوگ انہیں اپنے سرکا تاج بنائے رکھیں گے۔ان دونوں علمائے دین کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں عظیم جنگوں کے بعد بھی لوگ ٹیبل ٹاک پرآئے ہیں اور امن معاہدوں کے ذریعے امن قائم کیا ہے۔یہ بات اظہر من الشّمس ہے کہ گلگت میں بھی آخر فیصلہ ٹیبل ٹاک اور امن معاہدے سے ہی ہونا ہے۔تو کیا ہمارے دونوں علمائے دین اِس انتظار میں ہیں کہ خدانخواستہ مزید قتل وغارت گری ہو اور پھر ٹیبل پر آجائیں۔خدارا! لوگوں کے احساسات وجذبات اور مصائب وآلام کو سمجھتے ہوئے جلد از جلد کچھ کریں۔

فرقہ واریّت کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے امن کی تجاویز پر من وعن عمل کرنا اور اس پر قانون سازی کرنا بھی ناگزیر ہے۔

اپنی راۓ کا اظہار کرنے کے لیے ishtiaqyaad@yahoo.com پر ای میل کریں. 

6 Responses to گلگت آتش فشاں کے دہانے پر

  1. shahid misgari says:

    nice efforts we appreciate the writer of this article thanks PT and ishtiaq yaad

  2. Nak alam says:

    Nice effort Brother Thanks

    • syed afsar jan says:

      These are the real facts you have explained. we all must think on it and our leaders and Ulmai karam too. Maray diyar main ho amn ham chahtay hain ( parindun main firqa parasti nehi hoti kabhi masjid pa ja baithay kabi mandir pa ja baithay) to phir ham insanun mai q?

  3. Nasirabadi says:

    Dear Sir;

    Excellent efforts, we salute you

  4. meher afroz says:

    hmary alfaz sifr kagaz tk mehdood nai hna chahye……………. we must take some steps to solve all these issues…………nice effort i appreciate you……..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s