چیف جج گلگت بلتستان کے نام بریگیڈیر حسام اللہ بیگ کا خط …. سانحہ ہنزہ کا تجزیہ

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

قابل صد احترام حج صاحب

اسلام علیکم و رحمتہاللہ

اسلامی معاشروں میں خداوندکریم کے بہت سارے اوصاف گنائے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک عدل وانصاف بھی ہے۔آپ ہمارے معاشرے میں اللہ کی اس وصف کے امین ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ باکردار منصفوں نے اللہ کے خوف کو سامنے رکھ کر حکومت وقت کے ارباب اختیارکی غلطیوں اور کوتاہیوں کیلئے جواب طلبی بھی کی ہے۔اور مناسب تادیبی کاروائی بھی۔اسی امید اور دعا کے ساتھ میں اپنی گزارشات آپ کے گوش گزار کررہا ہوں۔

اس خط سے منسلک تحریری مواد کے مطالعے سے مجھے امید قوی ہے کہ آپ بھی ان نتائج پر پہنچے گئیں جنکا ادراک میرے ذہین میں آیا ہے۔

میں ایک دستاویز کا خصوصی ذکر کرونگا ، جو UNO نے چند سال قبل آداب حکومت (Good Governance) کے حوالے سے تماممبر ملکوں کو بھجا تھا۔ مجھے علم نہیں کہ عہدے کی قسم لینے سے پہلے، ہمارے منصفین ان حکام کی معلومات اور تربیت کیلئے اس دستاویز سے استفادہ کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں اقوام عالم کی رہنمائی کیلئے UNO نے تمام ممبر ممالک میں نشر کیا ہے۔ میری مراد اس خط سے ہے جو خلیفہ المسلمین( یا بعض کے نزدیک امیرالمومنین بھی) مرتضی علی نے مالک الاشتر کو گورنر مصر مقرر کرتے وقت دیا۔

ہنزہ میں یکے بعد دیگرے جو تشویشناک واقعات ورنما ہوئے۔ انکی ذمہ داری کا انفرادی تجزیہ کرتے ہوئے میں درجہ ذیل نتائج پر پہنچا ہوں۔

1۔ یہ کہ وزیر اعلی جناب سید مہدی شاہ نے حکومت پاکستان کے سامنے جعلی کوالئف پیش کئے اور متاثرین عطا آباد کے حوالے سے ہمددری کی آڑ میں 315 ملین کی رقم منظور کرائی۔ یہ بات آرٹیکل (4)23 میں دی ہوئی قسم کے الفاظ ( یعنی دیانتداری ) سے متصادم ہے۔

2۔ یہ اکتوبر 2010میں بنک میں وصولی کے فورا بعد اس امداد کو متاثرین میں تقسیم نہیں کیا ۔ بلکہ اسے NADRA سے VERIFICATION سے منسلک کیا جو کہ میر ی نظر میں ایک تاخیری حربہ تھا۔کوائف کی تصدیق حکومت پاکستان کے سامنے پیش ہونے سے قبل کرتے تو دیانتداری کا پاس ہوتا۔ یہ امر قابل ذکر ہے حکومت کو پیش کرنے سے قبل کوائف کی تصیح کیلئے تحرری طور پر میرے خطوط انکے سامنے موجود تھے۔

3۔ یہ کہ ۱۱ اگست کے دن اپنی ہنزہ آمد کے سلسلے میں ایسی پولیس متعین کرائی۔ جو ان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے متاثرین میں سے دو افراد کے قتل میں ملوث ہوئی۔ آداب حکمرانی کے مندرجات کا مطالعہ کریں۔ تو ان سے روگردانی صاف نظر آیئگی۔ اس لئے میری نظر میں قتل اور اس کا ذمہ دار جناب سید مہدی شاہ سے منصوب کی جاسکتی ہیں۔

4۔ یہ کہ متاثرین کے فطری لایچ کو ابھارنے میں معاونت کی اور ان کو دلاسے دیئے کہ ان کی حکومت ان کو جلد از جلد مالی امداد دلا رہی ہے۔ جبکہ اس امداد کو بر وقت پہنچانے میں خود ہی رکاوٹ بنے۔

5 ۔ یہ کہ متاثرین قدرتی آفت کو ان کے جھیل عطا آباد پر ملکیتی حق دلانے کی تجویز کو معرض التوا میں رکھا اور اس طرح عزت نفس کے ساتھ جینے کی کاوش میں مدد نہیں دی۔

6۔ یہ کہ فسادات کے بعد قانون کی حکمرانی کے آڑ میں ” سبق سکھانے” کیلئے ATA لاگو کیا جو کہ ایک منفرد عمل نظر آتا ہے کیونکہ اس سے چند دن قبل واقع پذیر دہشت گردی کے موقع پر کوئی ایسا فیصلہ نظر نہیں آیا۔

میری نظر میں یہ فیصلے ان سازشوں کا حصہ ہیں۔ جو کہKKHکو غیر مستحکم کرنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔

بہی خواہ

بریگیڈیئر( ر) حسام اللہ بیگ ستارئہ امتیاز(م)

17 sep 2011

Transcribed by Maula Madad Qizill 


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s