سانحہ ہنزہ کا ذاتی تجزیہ … وزیر اعلی گلگت بلتستان کے نام خط

بسم اللہ الرّحمن الرّ حیم

قابل صد احترام سید مہدی شاہ صاحب

اسلا م علیکم و رحمتہ اللہ

پرسوں کی گفت و شنید کے بعد اپنے کئے ہوئے وعدے کے مطابق ہنزہ ہنزہ میں حالیہ واقعات کا ذاتی تجزیہ آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں ۔اس امید کے ساتھ کہ حکومتی فیصلوں اور پالیسی میں مناسب تبدیلی کی کوئی سبیل نکل آئے اورمعاشرے میں بہتر نتائج سے عدل و انصاف کے حصو ل میں آسانی ہو ۔مجھے یقین ہے کہ ماضی میں “سبق سکھانے ” کی حکمت عملی حکو متوں کیلئے کار گر رہی ہے۔ لیکن دنا کے موجودہ عمومی حالات میں میرا مشورہ ہے کہ یہ حکمت عملی اب موثر نہیں رہی۔ اس سے بہتر ہے کہ عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی کے اقدامات و بنیادی حقوق کی بنیاد پر رکھیں۔

اس سے پہلے بھی میں نے اپنے خیالات، ایک باشعور شہری کے حیثیت سے، آپ تک بذریعہ تحریر پہنچاتا رہا ہوں جنکے نقول آپ کی آسانی کیلئے ایک مرتبہ پھر اس تحریر کے ساتھ شامل کر رہا ہوں۔

ہنزہ کے واقعات کے بارے میں میرا ذاتی تجزیہ اس طرح ہے۔

1۔ پہلا نکتہ4جنوری 2010کو وقوع پذیر قدرتی آفت کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کے تفصیلات مرتب کرنے سے متعلق ہیں۔ان کے کوائف ضلعی حکومت کے ارکان خاص نے جمع کیں۔ مجھے  رپورٹوں کی تفصیلات حاصل کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ واضح ہو کہ ضلعی حکومت کے کوائف NDMA کے web siteپر آج بھی موجود ہیں( ان رپورٹوں کے مطابق ایک فلاحی ادارے   نے 309متاثرہ گھرانوں کی نشاندہی کی، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے رپورٹ کے مطابق یہ تعداد 381 تھی ۔

اس واضح فرق کو محسوس کرتے ہوئے میں نے چیف منسٹر جناب مہدی شاہ صاحب اور ضلعی انتظامیہ کے سربراہ جناب ظفر وقار تاج کو جولائی 2011 میں خط تحریر کیا۔ اس استدعا کے ساتھ کہ متاثرہ گھرانوں کو دوبارہ آباد کرنے کی خاطر انتہائی ضروری ہے کہ تفصیلات میں کوئی غلطی نہ رہے۔ ساتھ ہی مجھے ان تفصیلات کے ناجائز استعمال کے خدشات بھی تھے۔خط کے علاوہ میں نے ضروری جانا کہ ڈی سی جناب ظفر وقار تاج کے دفتر میں جاکر مناسب کاروائی کا مشورہ پیش کروں۔ اس موقع پر مستعدی سے انہوں نے میرے سامنے بذریعہ ٹیلیفون میعلقہ سرکاری عہدہ دار کی تاکید کی کہ تفصیلات کے نقائص کو فلاحی ادارے  کے معلومات کی روشنی میں دور کر کے ان کو مزید کاروائی کیلئے تیار کریں اس مستعدی پر میں مطمئن ہوا۔

جب ہنزہ میں جولائی اگست کے دوران یکے بعد دیگرے دو انتہائی تشیوشناک واقعات سامنے آئے تو میرا تجسس دوبارہ بیدار ہوا۔ اور اپنے تحقیق اور انتطامیہ کے متعلقہ افراد کے زبانی بیانات کی روشنی میں درج ذیل حقائق میرے سامنے آئے۔

1۔ یہ کہ جناب مہدی شاہ کے زبانی ہدایات کے تحت ضلعی انتظامیہ نے 381 متاثرہ گھرانوں کی تصیح کی اور بڑھا کر 457 کر دی۔ اس موقعے پر NADRAسے کوئی مدد نہیں لی گئی۔

2 ۔ جناب مہدی شاہ نے وزیر اعظم پاکستان اور صدر پاکستان سے سفارش کی۔ کہ ان متاثرہ افراد کی حالت زار پر رحم فرما کر مالی امداد کا ایک پیکیج دیا جائے۔جسے حکومت پاکستان نے منظور کیا اور اکتوبر 2010 میں 315ملین روپے کا چیک بنک (UBL) میں پہنچ گیا۔

3۔ اس موقع پر NDMA اور حکومت گلگت بلتستان نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ متاثرہ گھرانوں میں رقوم کی تقسیم سے پہلے NADRAسے تصدیق  کرائی جانی چاہیے

4۔ اگست کے واقعہ سے پہلے NADRA نے 397 افراد کی تصدیق کی تھی جبکہ حکومت گلگت بلتستان نے 440 گھرانوں کو امداد دینے کا فیصلہ کیا۔ اور بنک نے244 افراد کو ادائیگی بھی کی تھی، جبکہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنک نے تصدیق کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کی۔ اس لئے میری استدعا ہے کہ NADRA اور UBL حکام کو شامل تفیش کرکے حائق کی چھان بین ہو۔

ب۔ میرا دوسرا نکتہ ان اقدامات اور واقعات سے متعلق ہیں ۔ جن کی وجہ سے معاشرے میں غم و غصہ کی ایک کیفیت جنم لینے لگی۔ انکا ایک خاکہ درج ذیل ہے۔

1 ۔ یہ کہ ہنزہ کا نوجواں طبقہ یہ سمجھنے لگا ہے، کہ حکومتی عہدوں پر تعنیاتی وسائل  کی تقسیم ‘میرٹ’ ہی کو دنیاوی معاملات میں اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

2۔ یہ کہ ایسے افواہ گردش میں ہیں۔ جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہنزہ کے بے لو ث باسیوں کے خدمات جو متاثرین میں امداد کی تقسیم کے سلسلے میں کی گئیں ان کو درپردہ مل کر کے جناب ظفر وقار تاج کی ذیر نگرانی کافی بڑی رقم اس مد میں ہضم کی گئی۔ میرا مشورہ ہے کہ اس سلسلے میں بھی قابل اعتماد تفتیش کی جائے اور معاشرے کو ان افواہوں کے اثرات سے بچاےا جائے۔

3۔یہ کہ حال ہی میں حسینی اور بوریت ، علاقہ ہنزہ کے باسیوں کو علاقہ نگر کے حملہ آوروں نے شدید دہثت گردی کا شکار کیا اور اس سلسلے میں چند افراد کے علاوہ SPاور DCکے اقدامات ان شکوک کو جنم دیتے ہیں، کہ درپردہ ان حکام اور پولیس کے چند افراد نے حملہ آوروں کی پشت پناہی کہ اور بغیر کسی دقت کےدہشت گردی کے بعد اپنے گھر بحفاظت پہنچنے میں مدد کی۔ میرا مشورہ ہے کہ اخلاقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تحریری طور پر طے شدہ باتوں کی روثنی میں ، اس معاملے میں بھی پر اعتمادذرائع کے ذریعے جلد از جلد تحقیقات مکمل کر کے عوام کے سامنے لائی جائیں۔

4۔ یہ کہ کا فی عرصے سے سیاسی پارٹیوں کے ملکی سطح پر برسرپیکاری کی صورت ہنزہ میں بھی کارگر رہی ہے۔اس کے علاوہ پولیس کے چند اہلکاروں نے قدرتی آفت کے شکار گھر انوں کی مجبوری اور فطری پیکیج کو اپنے سیاسی مفاد میں استعمال کرنے کی جتن کی۔ ساتھ ہی کئی گروپوں کے مخفی مفادات کے حصول کیلئے بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اور متاثرہ لوگوں کو اکسانے میں ایک فعال کردار ادا کیا۔پولیس کے ایک SHO کا کردار واضح طور پر سننے میںآےا ہے۔ مجھے امید واثق ہے ،کہ جوڈیشل انکوائری کے نتیجے میں ان افراد کی نشاندہی ہوگی۔

5۔ یہ کہ بین الاقوامی طاقیتں اس علاقے میں متحرک ہیں جو کہ چین کی روز افزوں بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کو لگام دینے کیلئے ہر قسم کیcovert اقدامات کر رہی ہے۔ جن کا میں KKHکے ذمینی راستے کو غیر یقینی سورت حال سے دوچار کرنا بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں میرے ذاتی تجزئے میرے Blog کے کئی پوسٹ دیکھے جا سکتے ہیں۔جن میں علاقے کے باسیوں کو آگاہی دینے کیلئے کوشش کی گئی ہے۔

6۔یہ کہ ہنزہ کے نوجوانوں میں یہ تاثر عام ہے کہ سیاسی اور سماجی لیڈروں کی وجہ سے یہ زیادتیاں ہو رہی ہیں غیور اور بہادر قوم کو علاقے کے دوسرے باسیوں کی ذبان سے دبے غیرت، معاثرے کے طعنے سننے پڑھتے ہیں، اس لئے نوجوان طبقہ صبر کے دامن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے، اور کسی رہنمائی کے دعویدار کی بات سننے کیلئے تیار نہیں۔

7۔ یہ کہ بے نظیر مرحومہ کے قتل کے بعد کے واقعا ت کو موجودہ برسراقتدار پارٹی کے حوالے سے نوجوان طبقہ یہ سمجھ بیٹھا ہے۔ کہ اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حکومتی املاک کو تباہ کرنا اپنے سیاسی تربیت کی ایک مثال ہے۔ اور رویوں میں اس نمونے کی وجہ سے تبدیلی نماےاں ہے۔

8۔ یہ کہ 11اگست کے واقعات کی تفتیش کے سلسلے میں جو غیراخلاقی اور پر تشدد طریقے اپنائے گئے ہیں۔ ان سے آئندہ بھی حالات کے بہتری کے آثار کم ہو گئے ہیں۔

9۔ یہ کہ جو پولیس نوجوان اپنے ہتھےار چھوڈ کر (یا چھپاکر) بھاگ گئے ہیں، ان کی قانونی ذمہ داری تھی کہ ان ہتھیاروں کی حفاظت اپنی جان سے عزیز رجھتے۔ جس پالیس سپاہی نے اپنا فرض نبھانے کی کوشش کی اس کے متعلق ایک غصّے اور بدلے کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، جو میرے نزدیک صیح نہیں۔ بلکہ میرا یہ نظر یہ ہے کہ نا قابل اعتبار پولیس جوانوں کو قانون کے مطابق سزا دیکر آئندہ صرف ان قبیلوں سے بھرتی کو ترجیح دیں جو تاریخی طور پر بہادر اور قابل اعتبار ہیں اور اپنی جان پر کھیل کر قانون کی حفاظت کر سکیں۔ تاکہ حکومت کی رٹ بھی قائم ہو، اور معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے۔

اس سلسلے میں IG کے حالیہ اقدامات جو کہ میرٹ کے نظریے پر پورا اتر تیں ہیں، ہنزہ کے باسیوں کیلئے باعث اطمینان رہی ہیںاور آئندہ کیلئے حکومتی اداروں میں بھرتی کے دوران ایسے ہی روّیے حالات کی بہتری کیلئے مددگار ثابت ہونگی۔

نیک خواہشوں کے ساتھ

بہی خواہ

بریگیڈیر (ر) حسام اللہ بیگ بلتت ہنزہ

کاپی برائے اطلاع :

جناب پیر کرم علی شاہ، گورنر گلگت بلتستان

جناب وزیر بیگ سپیکر GBLAاور یمائندہ

جناب وزیر شکیل صاحب وزیر قانون

 جناب سیکٹری حکومت گلگت بلتستان

Transcribed by Maula Madad Qizill 

2 Responses to سانحہ ہنزہ کا ذاتی تجزیہ … وزیر اعلی گلگت بلتستان کے نام خط

  1. Kindly correct the figures in the transcribed text to match with the original document. (The correct figure is 457 and not 451)

  2. Pamir Times says:

    The figure has been changed. Thanks for pointing out.

    regards

    Moderator

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s