زندہ قومیں

مولامدد قیزل  

زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔کبھی عروج تو کبھی زوال کی داستانیں رقم ہوتی رہتی ہیں۔اس تاریخی عمل میں جو اقوام بنیادوں پر استوار نہیں ہوتیں وہ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔گروہوں میں بٹ جاتی ہیں بکھر جاتی ہیں۔انکے درمیان ذات، عقیدہ،علاقہ،زبان اور رنگ و نسل کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔خارجی قواتیں ان پر غالب آجاتی ہیں اپنی ثناخت اور پہچان سے کوسوں دور ہو کر فرانگی اور غیروں کی رنگ میں رنگ جاتی ہیں۔

اس کے برعکس جس قوم کی بنیادیں محکم ہو ں وہ ایک درخشاںو تابناک ماضی اور مستقبل کے لئے ہمت و والہ کا اثاثہ رکھتی ہے۔وقتی طور پر ڈوبتی بھی ہے اور پھر طلو ع ہو جاتی ہے، سقوط کے بعد کھڑے ہو جانا،تاریخ کے افق پرپھر اپنی عظمت و عروج کی روثنی بکھیرنااسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ملی غیرت کا احساس بیدار ہو۔عزت نفس کی پاسداری کے لئے جان و مال قربان کر دینے کا جذبہ ´ قومیت ، قوم پرستی ہر حال میں تمام ذاتی مصلحتوں سے بالا تر ہو۔ تو ایسی قومیں زندہ قوم کہلاتی ہے۔

میں گلگت بلتستان کے ان قوم پرست، اہل علم، اہل دانش، اور ہر پیرو جواں سے مخاطب ہوں جو اپنی سنہری تارےخ، اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب و تمدن اور اس علاقے کے گونا گوں بولیوں سے واقف ہیںاور نقشہ´ دنیا پر اس خطے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔جن کی نظر میں انسانیت کے تحفظ کے لئے حقیقی امن و امان جیسی مطلوب اور حسین ثئے کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ اپنی کردار ادا کریں ، اس خطے کے بیما ر قوم کو خواب غفلت سے بیدار کریں۔سطح دنیا پر ایک زندہ و پائندہ قوم بن کر جئے۔۔ مگر یہ ممکن تب ہے جب ہر فرد انفرادیت سے نکل کر اجتماعی مفاد کو تر جیح دے۔ فرقہ واریت سے نکل کر قومیت کو ترجیح دے۔

اس سلسلے میں قدرت نے سانحئہ عطا آباد کے ذریعے اس قوم سے امتحان لیا ۔ مگر صد افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دو سال گزرنے کے بعد بھی آج متاثرین خاستہ حال زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔زندگی کے تمام بنیا دی حقوق سے محروم ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ قدرتی آفات پر انسان کا کوئی اختیار نہیں، انسان بے بس ہے مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اگر انسان کے اندر جاپانی قوم جیسی قوت ارادی، بلند حوصلہ، لگن، انسان دوستی، احساس ہمدری اور انسانیت ہوتو ایسی باہمت قوم کسی بھی قدرتی آفت اور انسان کی حائل کردہ آفتو ں کا مقابل کر سکتا ہے، ۱۱ مارچ 2011کو جاپان میں آنے والے زلزلے کے باعث 18500سے زیادہ لا شیں نکالی کئی اور 8000 سے زیادہ شہری اب تک لا پتہ ہیں ۔ مگر سلام ہو اس قوم پر، رحمت ہو اس جاپانی قوم پر جنہوں نے اس مشکل گھڑی کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔اس زلزلے نے جہاں ہزاروں لوگوں کو موت کی ابدی نیند سلا دی وہیں ایک منظم ، ہنر مند ،اور اخلاقی یافتہ قوم کا وہ چہرہ بھی دکھا دیا جو کہ آپس کے مظبوط تعلقات اور غیروں کیلئے جھولی کھلی رکھنے کا اہتمام تھا۔اس زلزلے میں تمام جاپانیوں نے اپنی خوداری ، عظمت، اور ترقی کو رکنے نہیں دیا۔اور نہ دیگر ممالک کی طرح دوسروں کی طرف دیکھابلکہ ہر ایک نے اپنے اپنے حصے کا کام بھر پور طریقے سے انجام دے کر یہ ثابت کردیا کہ زندہ قومیں ایٹم بم گراکر نیست و نا بود  کرنے سے بھی ڈگمگا نہیں سکتی۔ اس آفت میں جس بھائی چارے کا ثبوت دیاہے،سخاوت ،خلوص، درد مندی کا جو مظاہرہ کیا ۔وہ انگلیوں پر گنی چنی قوموں کا شیوہ ہے۔ کا ش میر ی قوم میں بھی ایسا جذبہ ہوتا۔۔۔۔

سنو اے اہل گلگت بلتستان ۔۔۔ یہ زندہ اور اعظیم قوم کی کہانی ہے۔جس نے اپنی تارےخ کے سنہری حروف میں اپنا نام رقم کردیاہے۔ دیکھو ذرا، اپنی اندر جھانک لو۔،اپنی وجود کا احساس کر لو،ذرا پوچھو اپنی آپ سے۔۔۔۔ کیو ں نہیں ہم میں بھی کوئی ایسی صفت ؟

اس زلزلے میں جاپانی حکومت نے تما م مشینری قوم کی مدد کیلئے لگاےا۔ اور یہاں کی بد بخت حکومت نے ہماری خون گرانے کیلئے لگاےا۔ دو سال بعد جب معصوم شہریوں کا قتل عام ہوا تب بھی کچھ فرقہ واریت پسند لوگوں نے اسے فرقہ بندی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ انہیں چاہے تھا کہ اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کریں مگر افسوس کہ وہ زخموں پر مرحم بھی نہ کر سکے۔

اہل جاپان نے آخری دم تک ان کے ساتھ دیا اور اےک سال کے اندر اندر انہیں عزت کی زندگی بخش دی مگر ہماری حکومت نے ہمیں بیکاری بنا دیا۔کسمپرسی کی زندگی گزرنے پر مجبور کیا ۔یہ عوام اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری تھی کہ ان قدرتی آفت میں مبتلا بھائیوں اور بہنوں کی دل کھول کے مدد کرتے مہاجرین و انصار جیسی کوئی مثال قائم کرتے ، مگر وہ بھی آج تک خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے۔عوامی نمائندے اپنی جیب بھرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ عوام کیوں بے حس بیٹھے ہوئے ہیں؟معاشرے کو جنگل بنا دیا کیا ہے اب خاموش رہنا زےب نہیں دیتا۔ کرپشن اپنے عروج پر ہے ، حکومت اور غیر حکومتی اداروں نے ان متاثرین کے نام کروڈں روپے جمع کی ہیں، وہ کہاں ہے؟ کو ن پوچھ ئنگے؟ لاقانونیت نے پورے معاشرے کو جکڑا ہوا ہے ، روٹی کے بدلے گولی مل رہی ہے۔کون ذمہ دار ہیں؟؟؟

سانحئہ عطاآباد پر عوام اور حکومت کا ردعمل مایوس کن ہے۔ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے 4 جنوری 2010کو 19 قیمتی جانیں ضائع ہوئےں، اور عوام کی نااتفاقی، بے ہمدردی،اور بے غیرتی نے باپ بیٹھا کی جاں لی۔اس دکھ کا درد شاید ہی کسی درد مند کو ہو، کوئی پوچھے جا کے کہ ان کی خاندان پر کیا گزر رہا ہے۔معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں پر بے زبان جانور نہ بنے۔ابھی بھی وقت ہے کہ زندہ قوموں کی طرح اپنی اندر وہ خصوصیات پیدا کریں اور اپنے کی ہوئی کوتاہیوں کوفراموش کریں ، اور زندہ قوم بن کر جینے کا عہد کریں ، متاثرین عطا آباد کیلئے کو ئی جلد حل نکالنے میں حکومت کو بیدار کریں ۔جون ایلیا کا یہ شعر میں گلگت بلتستان اور خاص طور پر اہل ہنزہ نگر کے عوام کےلئے کہو ں گا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زباں میں کیا ؟

میں اہل گلگت بلتستان کے تمام لوگوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ تمام تر انفرادی مصلحتوں کو چھوڈ کرمثالی قوم بنے کے لئے معاشرے سے لایچ، ہوس، کرپشن ،رشوت، اور دوسری اخلاقی بیماروں کا خاتمہ کریں۔اور دنےا میں ایک زندہ قوم بن کے ابھرے، ۔۔

4 Responses to زندہ قومیں

  1. hamad says:

    اور عوام کی نااتفاقی، بے ہمدردی،اور بے غیرتی نے باپ بیٹھا کی جاں لی ……….. Need explanation

  2. waseem says:

    i think in one way Mr qizill said well …. jo b hua 2 sal mai theek laikin after the murder of fathr n son … n raids of police n othr forces in hunza at night … ppl of hunza shw same wt u said … mager b4 this happening every hunzai try his best to serve IDPs …. ha ya mumkin hy ki tawakoowat zia hn … we must learn frm japenies .. i pray may God help us n settle soon our brothrs n sisters soon

  3. Sajjad Ali says:

    ideal artcl ………. our history is same as japenies .. v have to united n must show sympathy to all matters

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s