تعلیم اور ڈگری کی بے حرمتی

علی گل جی(علی احمد جان)

تعلیم ایک مقدس اور انتہائی اہم شعبہءہے۔کسی بھی ملک کی معا شی و معاشرتی ترقی تعلیم کے زریعے ہی ممکن ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اس شعبے کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ۔نہ صرف نظرانداز کیا گیا، بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعلیم اور اس شعبے سے وابسطہ لوگوں(اساتذہ اور طلبا) کو استعمال کیا گیا جو ہنُوز جاری ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمشہ اس شعبے کو فٹ بال بنا دیا اور گول اسکورکرنے کے لئے اس شعبے کی پُشت پر اتنی لاتیں ماری ہیں کہ یہ اُٹھ چلنے سے قاصر ہے۔

ہمارے ملک میں اس شعبے کی مثال اس ہیروینچی کی سی ہے جو ہمیشہ نشے میں دھت لڑکھڑاتا پھرتا ہے حکمرانوں نے ہر دفعہ اس کی رگوں میں نشے کے انجکشن لگاۓ ہیں، کبھی نااہل انتظامیہ کی صورت میں تو کبھی جعلی ڈگری ہولڈرز کی شکل مےں۔باقی کسر تعلیمی بجٹ کو کم کر کے پورا کر دیا ہے۔ ۸۰۰۲ ء میں ۹۸۲ ارب کی تعلیمی بجٹ کو گھٹا کر ۵۲۱کر دیا ہے۔

ا س شعبے کےساتھ مذاق کی ایک تاذہ مثال وزیر داخلہ رحمان ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینا ہے ۔یہ ڈرامہ منگل کے روز گورنر ہاوس مےں رچایا گیا اور یہ فرمایا گیا ہے کہ کہ ڈاکٹر حمان ملک نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے گراں قدر خدمات انجام دےے ہےں اور کراچی شہر مےں امن کی بحالی کے لئے بہترین خدمات انجام دئے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے ہر سطح پر مختلف تنازعات کو حل کےااور دوستی کو فروغ دینے کی بڑی کوششیں کیں۔

کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پپر زادہ قاسم نے فرمایا کہ رحمان ملک نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اعلیٰ خدمات انجام دی ہیں۔ڈاکٹر حمان ملک کی گاون پہنے تصویر جس میں وہ پپپر زادہ قاسم سے ڈگری وصول کر رہے ہیں، میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گئی ہے کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا حصول بھی سیاستدانوں کے لئے کتنا آسان کام ہے؟؟ زرداری اور گورنر کو ئی ملک صاحب کو ان کی “خدمات” کے عوض کوئی ایوارڈ بھی دے سکتے تھے لیکناس شعبے کو کیوں چنا گیا؟؟ تعلیم کے ساتھ ہی مذاق آخر کیوں؟؟؟ ہر حکومت اسی طرح ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تقسیم کرتی رہی تواس ڈگری کی کیا قدر رہےگی؟؟ اور اب ہر سےاستدان جھو ٹے دعوے اور بیانات دےکر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے بھر پور کوششیں کرےگا۔

 کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم نے شاید اس لئے یہ قدم اٹھایا ہو کہ موجودہ حکومت اور رحمان ملک انہیں پھر سے وائس چانسلر مقرر کریں. کیونکہ انکی مدت ملازمت پوری ہونے والی ہے. کراچی یونیورسٹی کی اسا تذہ تنظیم (کے ۔وی۔ٹی۔ایس)کے صدر ڈاکٹر عابد حسین کے حالیہ انٹرویو سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس سلسلے میں ا ن سے مشاورت نہیں کی گئی . کراچی یونیورسٹی کے ۰۰۵ ریگولر اساتذہ میں سے ۰۰۳ نے اس فیصلہ کے خلاف احتجا ج ریکارڈ کروا کر وایا ہے. میری یونورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلباءسے گزارش ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف اپنی آواز بلند کرے تاکہ آیندہ اس مقدس شعبے کے ساتھ اس طرح کا مذاق نہ ہو۔
اگر خدمات کے اعتراف میں ڈگری دینی ہے تھی تو عبدالستار ایدھی، انصار برنی ، عمران خان او ر کئی ایسے سخصیاط ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرتے ہیں. پیرزادہ قاسم صاحب نے اس ڈگری کی توہین کی ہے جس انسان کو سورہ فاتحہ کی تلاوت نہیں آتی ہواسے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے کرا س ڈگری کی توہین کی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s